20 ستمبر، 2026، 8:06 AM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

ٹرمپ آزاد میڈیا سے کیا چاہتا ہے؟

ٹرمپ آزاد میڈیا سے کیا چاہتا ہے؟

ٹرمپ نے دنیا کے تین بڑے میڈیا اداروں سی این این، پولیٹیکو اور ایم ایس این بی سی کو وائٹ ہاؤس میں داخلے اور خبروں کی کوریج سے روکنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ اقوامِ متحدہ کی ایران میں امریکی کاروائیوں سے متعلق جنگی جرائم کی رپورٹ کے صرف ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، ادب و ثقافت ڈیسک، فروگا افشار: گزشتہ روز ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر ان تینوں میڈیا اداروں پر مسلسل ’’جعلی خبریں، کہانیاں اور جھوٹ‘‘ شائع کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ مزید میڈیا اداروں کو بھی ایسی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے اس پابندی کا اعلان کسی رسمی یا قانونی کارروائی کے بغیر سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے کیا۔

ٹرمپ آزاد میڈیا سے کیا چاہتا ہے؟

جب ایک صحافی نے پابندی کی نوعیت کے بارے میں سوال کیا تو ٹرمپ نے کہا: میں نہیں چاہتا کہ وہ میرے دفتر میں ہوں، میں نہیں چاہتا کہ وہ یہاں ہوں۔

یہ اقدام ٹرمپ اور تنقیدی میڈیا کے درمیان کئی سال سے جاری کشیدگی کا تازہ واقعہ ہے۔

سی این این اور جِم اکوسٹا، 2018:

ٹرمپ کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں تلخ بحث کے بعد سی این این کے وائٹ ہاؤس نمائندے جِم اکوسٹا کا پریس کارڈ منسوخ کر دیا گیا۔ سی این این نے عدالت سے رجوع کیا اور وائٹ ہاؤس کے کئی حکام کے خلاف شکایت کی اور ایک وفاقی جج کے حکم پر اکوسٹا کا پریس کارڈ بحال کرنا پڑا۔

برائن کرم اور پلے بوائے، 2019:

وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں ایک تنازع کے بعد پلے بوائے کے صحافی برائن کرم کا پریس کارڈ بھی معطل کیا گیا، جسے بعد میں عدالتی حکم پر بحال کیا گیا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس، 2025:

ٹرمپ کی جانب سے ’’خلیج میکسیکو‘‘ کو ’’خلیجِ امریکہ‘‘ کہنے کی ہدایت کے بعد ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی طرزِ تحریر میں یہ نام تبدیل نہیں کیا۔ اس کے بعد انتظامیہ نے اے پی کے صحافیوں کی اوول آفس، صدارتی طیارے اور دیگر پروگراموں تک رسائی محدود کر دی۔ معاملہ اب بھی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

میڈیا کے خلاف قانونی مقدمات:

ٹرمپ نے وال اسٹریٹ جرنل، نیویارک ٹائمز، بی بی سی اور دیگر میڈیا اداروں کے خلاف بھی قانونی کاروائیاں کیں۔ اے بی سی اور سی بی ایس کے خلاف ہتکِ عزت کے مقدمات بالترتیب 15 اور 16 ملین ڈالر کی ادائیگی کے ساتھ ختم ہوئے۔ میڈیا قانون کے ماہرین کے مطابق ایسے مقدمات کا مالی دباؤ اداروں کو تنقیدی رپورٹنگ میں محتاط کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، میڈیا پر پابندیوں کا دائرہ وائٹ ہاؤس تک محدود نہیں رہا اور امریکی محکمہ دفاع اور محکمہ خزانہ نے بھی بعض صحافیوں کی رسائی محدود کی ہے۔

ایران جنگ کی کوریج پر ٹرمپ کا ردعمل:

2026ء میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کی کوریج پر ٹرمپ نے کئی مرتبہ سی این این اور نیویارک ٹائمز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ایران کے خلاف امریکی حملوں کے اثرات سے متعلق ایسی رپورٹس پر بھی اعتراض کیا جن میں حکومتی دعوؤں کے مقابلے میں حملوں کو کم مؤثر قرار دیا گیا تھا۔ 

سی این این کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی سے متعلق ایک رپورٹ پر بھی ٹرمپ نے اسے غلط قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔

سی این این کے اینکر جیک ٹیپر نے جواب میں کہا کہ میڈیا کا کام جنگ کی کوریج کرنا ہے، اس کی حوصلہ افزائی کرنا نہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ سے ایک روز بعد پابندی:

 ٹرمپ کی حالیہ پابندی کے اعلان سے ایک روز قبل اقوامِ متحدہ کی ایران سے متعلق آزاد تحقیقاتی ٹیم نے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کو رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ایسے معقول شواہد موجود ہیں کہ میناب کے شجرہ طیبہ اسکول پر ہونے والے حملے میں امریکی افواج ملوث ہو سکتی ہیں۔

ٹرمپ آزاد میڈیا سے کیا چاہتا ہے؟

رپورٹ کے مطابق، اس حملے میں 156 افراد، جن میں 120 بچے اور 26 اساتذہ شامل تھے، شہید ہوئے اور اسے جنگی جرم قرار دیا گیا۔

اسی روز سی این این نے ایک خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے اس حملے سے متعلق معمول کی انٹیلی جنس جانچ بھی مکمل نہیں کی تھی۔

آزادیٔ صحافت کے اداروں نے ٹرمپ کے اقدام کو امریکی آئین کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی قرار دیا۔

ٹرمپ آزاد میڈیا سے کیا چاہتا ہے؟

قدامت پسند قانون دان جوناتھن ٹرلی نے بھی کہا کہ ناپسندیدہ میڈیا کو رسائی سے محروم کرنا ایک خوفناک طرزِ عمل ہے۔

News ID 1941500

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha